Thursday, 19 March 2015

ye kyya k sb sy byaan dil ki halten krni

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تُو سامنے ہے اور ہمیں​
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی​
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں​
تمام عمر اُسی کی عبادتیں کرنی​
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اُس کے​
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی​
ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو​
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی​
ملیں جب اُن سے تو مبہم سی گفتگو کرنا​
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی​
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں​
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی​
کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا​
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی​
(کتاب: نایافت)

Tuesday, 6 January 2015

درد ہو دل میں جب تو دوا کیجئے 

  دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجیئے؟ 

ہمکو فریاد کرنی آتی ہے 

آپ سُنتے نہیں تو کیا کیجئے 

رنج اٹھاںے سے بھی خوشی ہوگی 

پہلے دل درد آشنا کیجئے 

موت آتی نہیں کہیں غالبؔ 

  کب تک افسوس زیست کا کیجیئے 

درد سے میرے ہے تجھکو بیقراری ہائے 

کیا ہوئی ظالم تیری غفلت شعاری ہائے

اپنی ہستی ہی  سے ہو جو کچھ ہو 

آگہی گر نا سہی غفلت ہی سہی 

تیرے دل میں گر نا تھا آشوبِ غم کا حوصلہ 

تونے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری ہائے ہئے 

کیوں میری غم خوارگی کا تجھکو آیا تھا خیال 

دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے 

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا 

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا 

عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے 

زھر لگتی ہے مجھے آب و ہوا زندگی 

یعنی تھی اسے ناسازگاری ہائے 

زندگی اپنی جب اس شکل سے گذری غالبؔ 

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خُدا رکھتے تھے 

گلفشانی ہائے نازِ جلوہ کہ کیا ہو گیا 

خاک پر ہوتی ہے تیری لال کاری ہائے ہائے 

شرمِ رسوائی جا چھپنا نقاب خاک میں 

ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے 


خاک میں ناموس پئمانِ محبت مل گئے 

اُٹھ گئی دینا سے راہ و  رسم یاری ہائے ہائے 


عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی  وحشت کا رنگ 

" عشق مجھکو نہیں وحشت ہی صحیح 

میری وحشت تیری شھرت ہی صحیح " 

عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی  وحشت کا رنگ 

رہ گیا دل میں جو کچھ ذل میں جو کچھ ذوقِ خالی ہائے ہائے  

Monday, 5 January 2015

درد ہو دل میں جب تو دوا کیجئے 

  دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجیئے؟ 

ہمکو فریاد کرنی آتی ہے 

آپ سُنتے نہیں تو کیا کیجئے 

رنج اٹھاںے سے بھی خوشی ہوگی 

پہلے دل درد آشنا کیجئے 

موت آتی نہیں کہیں غالبؔ 

  کب تک افسوس زیست کا کیجیئے 

درد سے میرے ہے تجھکو بیقراری ہائے 

کیا ہوئی ظالم تیری غفلت شعاری ہائے

اپنی ہستی ہی  سے ہو جو کچھ ہو 

آگہی گر نا سہی غفلت ہی سہی 

تیرے دل میں گر نا تھا آشوبِ غم کا حوصلہ 

تونے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری ہائے ہئے 

کیوں میری غم خوارگی کا تجھکو آیا تھا خیال 

دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے 

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا 

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا 

عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے 

زھر لگتی ہے مجھے آب و ہوا زندگی 

یعنی تھی اسے ناسازگاری ہائے 

زندگی اپنی جب اس شکل سے گذری غالبؔ 

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خُدا رکھتے تھے 

گلفشانی ہائے نازِ جلوہ کہ کیا ہو گیا 

خاک پر ہوتی ہے تیری لال کاری ہائے ہائے 

شرمِ رسوائی جا چھپنا نقاب خاک میں 

ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے 


خاک میں ناموس پئمانِ محبت مل گئے 

اُٹھ گئی دینا سے راہ و  رسم یاری ہائے ہائے 


عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی  وحشت کا رنگ 

" عشق مجھکو نہیں وحشت ہی صحیح 

میری وحشت تیری شھرت ہی صحیح " 

عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی  وحشت کا رنگ 

رہ گیا دل میں جو کچھ ذل میں جو کچھ ذوقِ خالی ہائے ہائے  

 


درد ہو دل میں جب تو دوا کیجئے 

  دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجیئے؟ 

ہمکو فریاد کرنی آتی ہے 

آپ سُنتے نہیں تو کیا کیجئے 

رنج اٹھاںے سے بھی خوشی ہوگی 

پہلے دل درد آشنا کیجئے 

موت آتی نہیں کہیں غالبؔ 

  کب تک افسوس زیست کا کیجیئے 

درد سے میرے ہے تجھکو بیقراری ہائے 

کیا ہوئی ظالم تیری غفلت شعاری ہائے

اپنی ہستی ہی  سے ہو جو کچھ ہو 

آگہی گر نا سہی غفلت ہی سہی 

تیرے دل میں گر نا تھا آشوبِ غم کا حوصلہ 

تونے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری ہائے ہئے 

کیوں میری غم خوارگی کا تجھکو آیا تھا خیال 

دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے 

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا 

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا 

عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے 

زھر لگتی ہے مجھے آب و ہوا زندگی 

یعنی تھی اسے ناسازگاری ہائے 

زندگی اپنی جب اس شکل سے گذری غالبؔ 

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خُدا رکھتے تھے 

گلفشانی ہائے نازِ جلوہ کہ کیا ہو گیا 

خاک پر ہوتی ہے تیری لال کاری ہائے ہائے 

شرمِ رسوائی جا چھپنا نقاب خاک میں 

ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے 


خاک میں ناموس پئمانِ محبت مل گئے 

اُٹھ گئی دینا سے راہ و  رسم یاری ہائے ہائے 


عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی  وحشت کا رنگ 

" عشق مجھکو نہیں وحشت ہی صحیح 

میری وحشت تیری شھرت ہی صحیح " 

عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی  وحشت کا رنگ 

رہ گیا دل میں جو کچھ ذل میں جو کچھ ذوقِ خالی ہائے ہائے  

 


ورثہ ہیریٹیج مکمل شو راحت فتح علی خان ، شائری مرزا غالب 75 منٹس کی وڈیو

یہ وڈیو بھی لنک کے تھرو بھیجی جا رہی ہو اور مجھے افسوس ہے کہ مینے پورا 75 منٹس کا پروگرام دیکھا یا سُنا بھی تک اچھی طرح سے جس وجہ سے میں اس کے لیرکس نہیں لکھ پایا امید ہے اس غلطی کی معافی دینگے اور میں آھستہ آھستہ کوشش کر کے اس کے لیرکس لکھتا جائوں گا شکریہ


Virsa (Full Show) Rahat Fateh Ali Khan sings Mirza Ghalib (75min Video) WideScreen Mode

Kindly click on the go to may be link can not work directly thanks