درد ہو دل میں جب تو دوا کیجئے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجیئے؟
ہمکو فریاد کرنی آتی ہے
آپ سُنتے نہیں تو کیا کیجئے
رنج اٹھاںے سے بھی خوشی ہوگی
پہلے دل درد آشنا کیجئے
موت آتی نہیں کہیں غالبؔ
کب تک افسوس زیست کا کیجیئے
درد سے میرے ہے تجھکو بیقراری ہائے
کیا ہوئی ظالم تیری غفلت شعاری ہائے
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نا سہی غفلت ہی سہی
تیرے دل میں گر نا تھا آشوبِ غم کا حوصلہ
تونے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری ہائے ہئے
کیوں میری غم خوارگی کا تجھکو آیا تھا خیال
دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا
عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو کیا
عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
زھر لگتی ہے مجھے آب و ہوا زندگی
یعنی تھی اسے ناسازگاری ہائے
زندگی اپنی جب اس شکل سے گذری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خُدا رکھتے تھے
گلفشانی ہائے نازِ جلوہ کہ کیا ہو گیا
خاک پر ہوتی ہے تیری لال کاری ہائے ہائے
شرمِ رسوائی جا چھپنا نقاب خاک میں
ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے
خاک میں ناموس پئمانِ محبت مل گئے
اُٹھ گئی دینا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے
عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی وحشت کا رنگ
" عشق مجھکو نہیں وحشت ہی صحیح
میری وحشت تیری شھرت ہی صحیح "
عشق نے پکڑا نا تھا غالب ابھی وحشت کا رنگ
رہ گیا دل میں جو کچھ ذل میں جو کچھ ذوقِ خالی ہائے ہائے
No comments:
Post a Comment