پھول تُمہیں بھیجا ہے خط میں پھول نہیں میرا دل ہے
پریتم میرے مُجھکو لکھنا کیا یہ تُمہارے قابل ہے
پیار چھُپا ہے خط میں اتنا جتنے ساگر میں موتی
چوم ہی لیتا ہاتھ تُمہارہ پاس جو میرے تُم ہوتیں
نیند تُمہیں تو آتی ہوگی ، کیا دیکھا تُم نے سپنا
آنکھ کھُلی تو تنہائی تھی ، سپنا ہو سکا نا اپنا
تنہائی ہم دور کریں لے آئو تُم شہنائی
پریت بڑھا کر بھول نا جانا پریت تُم ہی نے سکھلائی
خط سے جی بھرتا ہی نہیں اب نین ملے تو چین ملے
چاند ہمارے انگنا اُترے کوئی تو ایسی رین ملے
ملنا ہو تو کیسے ملیں ہم ملنے کی صورت لکھ دو
نین بچھائے بیٹھے ہیں ہم کب آئو گے خط لکھ دو
No comments:
Post a Comment