Thursday, 1 January 2015

بے خُود کیئے دیتے ہیں اندازِ حجاباناں استاد راحت فتح علی خان صاحب






آپ سب مھربا حضرات سے گذارش ہے کہ دی گئی لنک میں گو ٹو پر کلک کریں تاکہ آپ اس وڈیو پر پہنط سکیں یہ مجبوری اس لیئے لاحق ہے ہے بلاگ پر ہم صرف 100 ایم بی ڈیٹا اپلوڈ کر سکتےے ہیں اور یہ وڈیو 230 ایم کی ہے  اس کے بعد والی
ابھی ایک اور وڈیو اپلوڈ کر رہا ہوں جسکو بھی لنک کے تھرو شیئر کر سکتا ہوں کیوں کہ اس وڈیو کی سائیز بھی 187 ؐب ہے

https://vimeo.com/115802299


جوڑ لگتے گئے فسانے میں
راز کھلتے گئے چھپانے میں 
روٹھنے کا سبب تو تم جانو
ہم تو مصروف ہیں منانے میں 

تونے تنکے سمجھ کہ پھونک دیا
میری دنیا تھی آشیانے میں 

قرار لوٹ لیا
بے قرار چھوڑ گئے
بھار لے گئے
یادِ بھار چھوڑ گئے
ہماری تشنے ہزیں کا
وہ عمر بھر اشک بار چھوڑ گئے
مینے معصوم بھاروں میں تمہیں دیکھا ہے 
مینے پُرنور نظاروں میں تمہیں دیکھا ہے
میرے محبوب تیری پردہ نشینی کی قسم
مینے ہر سمت نظاروں میں تمہیں دیکھا ہےقوال





بے خُود کیئے دیتے ہیں اندازِ حجاباناں
آ دل میں تُجھے رکھ لوں اے جلوہء جاناناں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہو
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
اندازِ حجاباناں اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباں
خِرَد کا نام ، خَرِد کا نام جُنوں پَڑ گیا ، جَنوں کا خِرد
جو چاھے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
اندازِ حجاباناں اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباں
حجاب کو بے حجاب کر دے
نقاب کو بے نقاب کر دے
قسم ہے معصومیت کی تُجھکو
نظامِ فطرت کو خراب کردے
وہ کیسی دھارا الجھتا
جو جیب و داماں کی دھجیوں سے
میں اس جَنوں کی تلاش میں ہوں
جو چاک تیرا نقاب کردے
اجاڑ دے میرے دل کی دُنیا
میرے سَکوں کو تباھ کردے
یہ بے حجابی بھی کیا تماشا
مُجھ ہی میں رہنا مُجھ ہی سے پردہ
تباھ کرنا ہے گر تُجھ ، نقاب اُٹھا
اور تباھ کردے
اندازِ حجاباناں اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباں
تُم تصور میں ہو میرے ہر دم
کیسے کہہ دوں کہ دیکھا نہیں ہے
لاکھ پردے نظر کے گرا دو
عشق چھپنے سے چھپتا نہیں ہے
اے میرے ساقیا بھولے بھالے
تیری آنکھیں ہیں یا مئے کے پیالے
جس کو تونے نظر سے پلائی
اسکو ہوش پھر آیا نہیں ہے
جب سے دیکھا ہے جلوہ تُمہارا
لاکھ دیکھے دُنیا میں حُسن والے
سارے عالم میں تجھ سا نہیں ہے
اندازِ حجاباناں اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباں
سینہ سِپر ہوں دیکھ لے
تیرِ نظر کا وار کر
گیسوء تابدار کو اور بھی تابدار کر
قلب و نظر شکار کر
ہوش و خِرد شکار کر
تو ہے محیتِ بے کراں
میں ہوں ذرہ سی آبِ و جو
یا مُجھے ہمکنار کر اور یا مۃجھے بے کنار کر
باغِ بھشت سے مُجھے حکمِ سفر دیا تھا تونے
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر ،
روزِ حساب پیش ہو جب میرا دفترِ امن آپ بھی شرمسار ہو
مُجھکو بھی شرمسار کر
سینہ سِپر ہوں دیکھ لے
تیرِ نظر کا وار کر
آ جا نظر کے سامنے
گیسو ذرہ سنوار کر
عدل و قہر خوشی تیری
رحم و کرم طلب میری
اچھا تو چل یوں ہی سہی
میرے گُناھ شُمار کر
لذتِ عاشقی ہے کیا
تُو بھی تو چکھ کبھی مزہ
آپ بھی اپنے جلوے سے
خُد کو کبھی شکار کر
مُجھکو تو اس جہاں میں
صرف تجھ ہی سے عشق ہے
یا میرا امتحان لے اور یا میرا اعتبار کر
اندازِ حجاباناں اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباناں ، اندازِ حجاباں
کیوں آنکھ ملائی تھی کیوں آگ لگائی تھی
اب رُخ کو چھُپا بیٹھے کر کہ مُجھے دیوانہ
میں ہوش حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
تُم نے جو کہا ہنس کر آیا میرا دیوانہ
ساقی کو دکھا دوں گا یہ حال فقیرانا
ٹوٹی ہوئی بوتل ہے ٹوٹو ہوا پیمانا
ساقی تیرے ملنے کی ترکیب یہ سوچی ہے
ہم دل میں بنا لیں گے چھوٹا صنم خانہ
دُنیا میں اگر تُم نے مجھے اپنا بنایا ہے
محشر میں بھی کہہ دینا آیا میرا دیوانہ
سوچا ہے کہ تحفے میں میں پیش کروں آ کے
درشن کا تو درشن ہے نذرانے کا نذرانہ
بیدم میری قسمت میں سجدے ہیں اسی در کے
چھوٹا ہے نا چھوٹے گا سنگِ در جاناناں
او بے خود کیئے دیتے ہیں انداِ حجاباناں
بے خُود کیئے دیتے ہیں اندازِ حجاباناں
آ دل میں تُجھے رکھ لوں اے جلوہء جاناناں
بے خُود کیئے دیتے ہیں اندازِ حجاباناں
آ دل میں تُجھے رکھ لوں اے جلوہء جاناناں


































 

No comments:

Post a Comment